
پاکستان دنیا میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں تیسرے نمبر پر ہے — تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ افراد۔ ان میں سے زیادہ تر کو یہ بھی نہیں معلوم کہ انہیں یہ بیماری ہے۔ اور جن کو معلوم ہے، ان میں سے بھی بیشتر نے کبھی آنکھوں کا مکمل معائنہ نہیں کروایا۔ ذیابیطس ریٹینوپیتھی دنیا میں قابلِ علاج اندھے پن کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اور یہ بالکل خاموشی سے آتی ہے۔
ذیابیطس آنکھوں کو کیسے نقصان پہنچاتی ہے؟
آنکھ کے پچھلے حصے میں ریٹینا ہوتا ہے — جو روشنی محسوس کرنے والی باریک رگوں کا جال ہے۔ خون میں مسلسل زیادہ شکر رہنے سے یہ رگیں کمزور ہو جاتی ہیں اور خون یا پانی ریٹینا میں رسنے لگتا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں مریض کو کچھ نظر نہیں آتا — نہ درد، نہ دھندلاپن۔ لیکن اندر سے نقصان ہو رہا ہوتا ہے۔
جب بیماری بڑھتی ہے تو آنکھ نئی کمزور رگیں بناتی ہے جو آسانی سے پھٹ جاتی ہیں۔ آنکھ میں خون بھر جاتا ہے اور بینائی اچانک ختم ہو سکتی ہے۔ بروقت علاج نہ ہو تو ریٹینا الگ ہو جاتی ہے — اور بینائی ہمیشہ کے لیے چلی جاتی ہے۔
یہ بیماری خاموش کیوں ہے؟
ریٹینا میں درد کے اعصاب نہیں ہوتے۔ اس لیے ابتدائی مرحلے میں مریض کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ دھندلا پن اس وقت شروع ہوتا ہے جب نقصان کافی ہو چکا ہوتا ہے۔ جب تک مریض کو احساس ہو، بینائی کا بڑا حصہ جا چکا ہوتا ہے۔
دنیا بھر میں طبی معیار یہ ہے: ہر ذیابیطس کے مریض کا سال میں ایک بار آنکھوں کا کلینیکل معائنہ ہونا چاہیے — تشخیص کے پہلے دن سے۔ جو ممالک اس پر عمل کرتے ہیں وہ ذیابیطس سے متعلق اندھے پن میں 90 فیصد تک کمی لاتے ہیں۔
ڈاکٹر معائنے میں کیا دیکھتا ہے؟
- چھوٹے خون کے دھبے (Microaneurysms) — ذیابیطس ریٹینوپیتھی کی سب سے ابتدائی علامت — ڈاکٹر فوری پکڑ لیتا ہے۔
- ریٹینا میں خون کا رساؤ — رگوں کے کمزور ہونے کی علامت۔ ان کی جگہ اور تعداد سے بیماری کا مرحلہ معلوم ہوتا ہے۔
- میکولر سوجن — ریٹینا کے مرکزی حصے میں پانی — قابلِ علاج ہے اگر وقت پر پکڑا جائے۔
- زرد رنگ کی تہیں — رگوں سے نکلنے والی چکنائی کے ذرات — بینائی کو فوری خطرہ۔
- نئی کمزور رگیں — بیماری کا سب سے خطرناک مرحلہ — فوری علاج سے بینائی بچائی جا سکتی ہے۔
CARELINE کا ریموٹ آنکھ کا معائنہ
CARELINE کی eEVA™ ڈیوائس میں ہائی ریزولیوشن آپتھلموسکوپ ہے جو ریٹینا کی واضح تصویر ریئل ٹائم میں ڈاکٹر تک پہنچاتی ہے۔ آپ کی قریبی فارمیسی میں — بغیر ہسپتال کے، بغیر لمبے انتظار کے — ایک مستند ڈاکٹر آپ کی آنکھوں کا وہی معائنہ کرتا ہے جو کسی ماہر امراض چشم کلینک میں ہوتا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا ذیابیطس ریٹینوپیتھی قابلِ علاج ہے؟
ابتدائی مراحل میں — بلڈ شوگر کنٹرول اور لیزر علاج سے — بینائی مکمل بچائی جا سکتی ہے۔ جتنا جلد پکڑا جائے، علاج اتنا آسان اور کامیاب ہوتا ہے۔
کیا بینائی نارمل ہو تو بھی بیماری ہو سکتی ہے؟
جی ہاں — یہی سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ابتدائی مراحل میں بینائی بالکل نارمل ہوتی ہے۔ صرف کلینیکل معائنے سے حقیقت معلوم ہوتی ہے۔
کتنی بار معائنہ کروانا چاہیے؟
ہر ذیابیطس کے مریض کو سال میں کم از کم ایک بار آنکھوں کا مکمل کلینیکل معائنہ کروانا چاہیے — تشخیص کے پہلے دن سے۔
آج ہی CARELINE آنکھوں کا معائنہ بک کریں۔
ذیابیطس آپ کی آنکھوں کو نقصان پہنچا رہی ہے — خاموشی سے۔ معائنہ آپ کو بتائے گا کہ واقعی کیا ہو رہا ہے۔
📱 واٹس ایپ: +92 310 2145333
📧 contact@thecareline.org
قریبی فارمیسی میں ماہر ڈاکٹر کا ریموٹ آنکھوں کا معائنہ۔
Get Your Remote Clinical Examination Today
Pakistan's only eEVA™-certified telehealth provider. Cardiologist-grade diagnostics from your nearest pharmacy or home — available 24/7.
🔒 DRAP Licence No. ELI-EN00000073 • ⚡ 2-Minute Booking • 🏢 Available Across Pakistan
